|
|
|
|
|
|
|
|
آنکھیں ان کی بہتا جھرنا ہے جیسے چپکے چپکے سے کچھ کہتا ہے جیسے کیوں نہ ان میں ڈوب جاؤں ایسے پلکیں ان کی تلوار کی دھارا جیسے کیوں نہ ان سے زخم کھاؤں ہونٹ جیسے گلاب ہیں کیوں نہ ان کی مہک دل میں بساؤں گال گلابی شراب جیسے دیکھ دیکھ سراپا ان کا خود ان سے شرمائے کیوں نہ میں مست ہو جاؤں بال ان کے گھٹایں جیسے کیوں نہ ان کی اوٹ میں چھپ جاؤں کانوں میں ان کی بالیاں اک جھنکار سی سنائیں کیوں نہ ان کوخوابوں میں بساؤں جسم سارا دھک رہا ہے قریب سے گزریں تو جل جائیں کیوں نہ اس کی طرف کھنچتا جاؤں چلنے کا انداذایسا کیوں نہ واہ واہ کر جاؤں دل چاہے کہ میں ایسا بن پاؤں ان کی آنکھوں سے دل میں اتر جاؤں جو ان کو آئے پسند اور وہ کہیں آ سجنا میں تیری ہو جاؤں
میری
زندگی کی ہے بس ایک آرزو میرے ساتھ جائے وطن عزیز کی مٹی کی خوشبو۔
|
|
|
|
|
|
![]()
Copyright © 2002 - 2004, Fayaz All rights reserved.